جہاں مرضی نہ ہو بے اختیاری جا سکے گی
جہاں مرضی نہ ہو بے اختیاری جا سکے گی کسی بھی سمت یہ پرواز سیدھی جا سکے گی کہیں رستے میں ہی پڑتا ہے سائے کا سمندر جہاں یہ دھوپ آسانی سے پھینکی جا سکے گی بہت رستے ہیں کل کی سمت، اِس دل کے علاوہ مگر یہ شام کس رستے سے جلدی جا سکے گی کسی اندھے کنویں میں سر کے بل گر کے ہی شاید سنبھلنے کی کوئی تدبیر سوچی جا سکے گی خوشی نے گھیر رکھّا ہے محیطِ عُمر جب تک فغاں اس بحر سے کیونکر اُچھالی جا سکے گی کسی بھی سمت سے جلدی نکالو کوئی رستہ اُسی رستے سے منزل بھی نکالی جا سکے گی قبائے وقت مجھ پر تنگ ہوتی جا رہی ہے سو یہ پوشاک آئندہ نہ پہنی جا سکے گی کسی ترتیب سے کوئی بھی شے رکھّوعزیزو مگر اِس کُنج میں تنہائی رکھی جا سکے گی کسی بھی آنکھ میں کچھ خواب رکھے جا سکیں گے کسی بھی ہاتھ سے تعبیر چھینی جا سکے گی ذرا سی دیر میں دل سے نکالا جا سکے گا ذرا سی بات پر تنخواہ کاٹی جا سکے گی کبھی یہ رنج بھی دل سے گُزارا جا سکے گا کبھی یہ رات بھی گھر میں اُتاری جا سکے گی بہت دن بعد اس بارے میں سوچا جا سکے گا بہت دن بعد یہ روداد لکھّی جا سکے گی