عتیق احمد جیلانی

عتیق احمد جیلانی

کب تیری طرف بادِ وفا لے گئی ہم کو

    کب تیری طرف بادِ وفا لے گئی ہم کو جو سر میں سمائی تھی ہوا لے گئی ہم کو کُچھ سہل نہیں سیلِ تغافل میں ٹھہرنا اِک موجِ توقّع ہی بہا لے گئی ہم کو دامن کشِ خاطر تھے بہت یاں کے دروبام بس! تیری تمنّا ہی بچا لے گئی ہم کو کچھ ٹھیک نہیں دہر میں اِس دل کی ہوا کا جانا تھا کُجا اور کُجا لے گئی ہم کو اک عُمر کی تاخیر کے بعد اُس کی صدا پر ٹھہرے، تو کوئی اور صدا لے گئی ہم کو