بیدل حیدری

بیدل حیدری

دریا نے کل جو چپ کا لبادہ پہن لیا

    دریا نے کل جو چپ کا لبادہ پہن لیا پیاسوں نے اپنے جسم پہ صحرا پہن لیا وہ ٹاٹ کی قبا تھی کہ کاغذ کا پیرہن جیسا بھی مِل گیا ہمیں ویسا پہن لیا فاقوں سے تنگ آئے تو پوشاک بیچ دی عریاں ہوئے تو شب کا اندھیرا پہن لیا گرمی لگی تو خود سے الگ ہو کے سو گئے سردی لگی تو خود کو دوبارہ پہن لیا بھونچال میں کفن کی ضرور نہیں پڑی ہر لاش نے مکا ن کا ملبہ پہن لیا بیدل لباسِ زیست بڑا دیدہ زیب تھا اور ہم نے اس لباس کو اُلٹا پہن لیا