بیدل حیدری

بیدل حیدری

جو سوچوں میں کبھی ہم پیکرِ صحرا بناتے ہیں

    جو سوچوں میں کبھی ہم پیکرِ صحرا بناتے ہیں تو کچھ خیمے بناتے ہیں اور اِک دریا بناتے ہیں امیرِ شہر ہم سے اس لیے ناراض رہتا ہے کہ ہم ان شہر والوں کو جنوں پیشہ بناتے ہیں ترا یہ حال اب اے مفلسی دیکھا نہیں جاتا تری اُنگلی پکڑتے ہیں تجھے اندھا بناتے ہیں بغیر اس کے کسی پیکر کو بینائی نہیں ملتی اسی باعث غزل میں ہم ترا چہرہ بناتے ہیں نہ ہم پارس کا ٹکڑا اور نہ بیدل آئینہ گر ہیں مگر دشتِ ہنر کی خاک کو سونا بناتے ہیں