بیدل حیدری

بیدل حیدری

یا تو ساحل سے کنارا تمہیں کر جانا تھا

    یا تو ساحل سے کنارا تمہیں کر جانا تھا تشنہ لب تھے تو سمندر میں اُتر جانا تھا مجھ کو منظور بہر رُخ تری خوشنودی تھی تو اگر شہ بھی نہ دیتا، مجھے ہر جانا تھا اس نے خود دھوپ کے بیلے میں نہ ملنا چاہا ورنہ سورج کو کھجوروں میں اُتر جانا تھا میرے آنگن میں تو گملے ہیں نہ انگور کی بیل اے خزاں! تجھ کو کسی اور کے گھر جانا تھا اس نے جب برف نظر ڈالی تھی تجھ پر بیدل آگ کپڑوں میں لگا لینی تھی مَرجانا تھا