اس لڑائی میں جو یہ اِک سخت جاں ہے سامنے
-
اس لڑائی میں جو یہ اِک سخت جاں ہے سامنے میرے اپنے ہی قبیلے کا جواں ہے سامنے کھل گئی میری گلی میں بھی کھلونوں کی دُکان اور اس پر یہ ستم میرا مکاں ہے سامنے جال ہی صیاد نے ایسا بُنا تھا اس برس فاختہ سمجھی کہ اس کا آشیاں ہے سامنے سازشوں کے سارے منصوبے دھرے رہ جائیں گے ہوش کر اے عقل کے اندھے، کنواں ہے سامنے اس لیے بیدل کمی آئی نہیں بینائی میں بیٹھتے اُٹھتے ابھی تک میری ماں ہے سامنے