بیدل حیدری

بیدل حیدری

زخموں پہ شباب اتنا زیادہ تو نہیں تھا

    زخموں پہ شباب اتنا زیادہ تو نہیں تھا پہلے مرا گل رنگ لبادہ تو نہیں تھا کیوں آنکھ کے صحرا سے اُبلنے لگے چشمے غم، دِل کی ضرورت سے زیادہ تو نہیں تھا درکار تھا کچھ کرب مرے جذبۂ فن کو ورنہ تری چاہت کا ارادہ تو نہیں تھا دو دن میں بُھلا بیٹھا تبسم کے چلن کو تو غم کا ہدف مجھ سے زیادہ تو نہیں تھا بیدل میں جسے دیکھ کے مبہوت ہوں اب تک وہ شخص کوئی آئینہ زادہ تو نہیں تھا