یہ جو چہروں پہ لیے گردِ الم آتے ہیں
-
یہ جو چہروں پہ لیے گردِ الم آتے ہیں یہ تمہارے ہی پشیمانِ کرم آتے ہیں اتنا کھل کر بھی نہ رو، جسم کی بستی کو بچا بارشیں کم ہوں تو سیلاب بھی کم آتے ہیں تو سنا! تیری مسافت کی کہانی کیا ہے؟ میری راہوں میں تو ہر گام پہ خم آتے ہیں ظلمتِ شب کے مکیں اپنے دریچے کھولیں ہم اُٹھائے ہوئے سورج کا عَلم آتے ہیں خول چہروں پہ چڑھانے نہیں آتے ہم کو گاؤں کے لوگ ہیں ہم، شہر میں کم آتے ہیں وہ تو بیدل کوئی سوکھا ہوا پتہّ ہو گا تیرے آنگن میں کہاں ان کے قدم آتے ہیں