بیدل حیدری

بیدل حیدری

زلزلوں سے شہرِ جسم و جاں میں کیا رہ جائے گا

    زلزلوں سے شہرِ جسم و جاں میں کیا رہ جائے گا بام و در گر جائیں گے ملبہ پڑا رہ جائے گا آبِ شیریں کی تمنا ہے تو پھر تیشہ اُٹھا کب تلک ناخن سے پتھر کھودتا رہ جائے گا بھول جائے گا تجھے پردیس میں جا کر کوئی اور تو یادوں کا البم دیکھتا رہ جائے گا وہ نئی بستی بسا کر بھی نہ ہو گا مطمئن ذہن میں نقشہ پرانے شہر کا رہ جائے گا ابرِ نیساں سے کہو، برسے خدا کے واسطے ورنہ ساری سیپیوں کا منہ کھلا رہ جائے گا بیدل اپنے درد کی تشہیر کرنی چھوڑ دے ورنہ یہ کتبہ گلی کوچے سجا رہ جائے گا