گاؤں بھی چھوٹ گیا شہر بھی کھانے آئے
-
گاؤں بھی چھوٹ گیا شہر بھی کھانے آئے کیسا اندھیرا ہے، یہ کیسے زمانے آئے حسرتیں جمع ہوئیں آنکھ کی جھیلوں کے قریب دشت کے لوگ سمندر میں نہانے آئے کھل کے روتا ہوں تو ہمسائے گلے پڑتے ہیں چپ جو ہوتا ہوں ، مرا گھر مجھے کھانے آئے میں بلاؤں بھی تو نزدیک نہ آئے کوئی تو جو روٹے، تجھے ہر شخص منانے آئے مرے ہم عصروں نے شاہوں کے قصیدے لکھے میرے حصے میں بغاوت کے ترانے آئے بوٹیاں اپنی ہی خود نوچ رہا ہوں بیدل میرے چنگل سے کوئی مجھ کو چھڑانے آئے