بیدل حیدری

بیدل حیدری

محبت کی حدوں کو پار مت کر

    محبت کی حدوں کو پار مت کر مرے حصے کا کاروبار مت کر تری پختہ حویلی کو دُعائیں مرا کچا مکاں مسمار مت کر مسافر آدمی کا کیا بھروسا مسافر آدمی سے پیار مت کر چلا جائے گا کیا لیتا ہے تیرا گدائے راہ سے تکرار مت کر اگر تو صاحبِ قبلہ ہے بیدل تو پھر رُخ، جانبِ دربار مت کر