بیدل حیدری

بیدل حیدری

اس نے کل گاؤں سے جب رختِ سفر باندھا تھا

    اس نے کل گاؤں سے جب رختِ سفر باندھا تھا بچہ آغوش میں تھا، پشت پہ گھر باندھا تھا اُنگلیوں پر بھی نچایا ہے سمندر ہم نے ہم نے اِک دَور میں چپو سے بھنور باندھا تھا اب جو دم گھٹتا ہے زنداں میں تو روتے کیوں ہو تمہی لوگوں نے تو دیوار کو دَر باندھا تھا یہ جو لوگوں کو اب آواز سے پہچانتا ہے اس کی ماں نے اسے تعویذِ نظر باندھا تھا اس کی یادوں نے بنا دی تھی مسافت دُشوار اس نے آندھی کی طرح میرا سفر باندھا تھا جنگ کو جیت کے جس وقت میں لوٹا بیدل اس نے سہرا ہی کسی اور کے سر باندھا تھا