بیدل حیدری

بیدل حیدری

ہمیں ہی پیاس بجھانے کا تجربہ کم تھا

    ہمیں ہی پیاس بجھانے کا تجربہ کم تھا وگرنہ آنکھ کا پانی بھی آبِ زم زم تھا بچھڑتے وقت عجب کرب کا شکار تھا وہ ہنسی تھی اس کے لبوں پر نہ آنکھ میں نم تھا میں آنسوؤں کے علاوہ نہ لا سکا کچھ بھی وہ اس لیے کہ وہاں بارشوں کا موسم تھا وہ جس مکان میں رہتا تھا ان دِنوں اِک شخص اسی کے ساتھ مرا اپنا دفترِ غم تھا میں لڑ رہا تھا لہو کے محاذ پر جس دم مری سپاہ تھی بیدل نہ میرا پرچم تھا