بیدل حیدری

بیدل حیدری

کل جو آندھی کا مرے گاؤں میں ریلا اُترا

    کل جو آندھی کا مرے گاؤں میں ریلا اُترا سانس کے ساتھ ہر اِک جسم میں صحرا اُترا قتلِ گاہ پہلے بھی ہوتا تھا خزاں کے ہاتھوں مگر اب کے تو ہر اِک پیڑ میں تیشہ اُترا لوگ تو ساحلِ قلزم ہی پہ سیراب ہوئے تشنگی میری زیادہ تھی میں گہرا اُترا احتیاطاً کوئی جگنو ہی قبا میں رکھ لے کام دے گا جو مسافت میں اندھیرا اُترا جن کی آغوش میں سوتے تھے پرندے بیدل رات طوفا ں کا انہی پیڑوں پہ غصہ اُترا