بیدل حیدری

بیدل حیدری

رودادِ شباب لکھ رہا ہوں

    رودادِ شباب لکھ رہا ہو ں آندھی پہ کتاب لکھ رہا ہوں دریاؤں کا خوش نویس ہوں میں پانی پہ حباب لکھ رہا ہوں لفظوں میں دُھنیں ہیں بانسری کی تاریخِ چناب لکھ رہا ہوں سوتے میں تو ہاتھ کٹ چکے تھے جاگا ہوں تو خواب لکھ رہا ہوں کاغذ بھی پناہ مانگتا ہے عمروں کے عذاب لکھ رہا ہوں غزلوں کو لہو پلا کے بیدل فاقوں کے حساب لکھ رہا ہوں