بیدل حیدری

بیدل حیدری

احترامِ لغزشِ مستانہ کر

    احترامِ لغزشِ مستانہ کر یا مرے نزدیک سے گزرا نہ کر آگ کی پوجا کا دروازہ نہ کھول سرخ پیراہن میں یوں نکلا نہ کر چاند کا دل بھی کہاں کا صاف ہے چاندنی میں بام پر سویا نہ کر عمر بھر سلگے گا بیدل دھوپ میں آنچلوں کے سائے کی سوچا نہ کر