رودِ نبرات
بھیگے بھیگے ہیں دن رات
صحرا میں اُتری برسات
پاؤں زمیں پہ دھرتے ہیں
کِن مِن کی گَت پر قطرات
بوندیں بچھوے چھنکائیں
آئی پُروا کی بارات
برکھا رُت کی ڈولی سے
اُترے گدرائے لمحات
اِک اِک باراتی کے ساتھ
لاہ و گِل گلکو نہ ہیں
اڑتے ہیں گلگوں رشحات
ہریالی کے دوشالے
اوڑھے پھرتے ہیں ذرّات
پانی کا گھونگھٹ کاڑھے
مانجھے بیٹھی ہیں ساعات
بوچھاروں کے گجرے ہیں
ہر کونری بدلی کے ہاتھ
ہر جھالے پر وار دیے
گل زادوں نے تن کے پات
لمحہ لمحہ ٹھاکُر ہے
تن من کر دے گا خیرات
پگ پگ نین بچھے دیکھے
پگ پگ پر جگ مگ ثمرات
قطرے موتی ٹھہرے ہیں
پلکیں لڑیوں کے باغات
ہر رُت کے اپنے نوحے
ہر رُت کے اپنے نغمات
لوگ دُکھوں کی گٹھڑی ہیں
آتے ہیں سکھ کے لمحات
مہکاروں کی گود میں ہے
ایک پیام برِ نفحات
دُودھ کی دھار کا حق ہوا ادا
پائیں ثویبہ دکھوں سے نجات
آمنہ کے گھر اُترے ہیں
مائی حلیمہ کے درجات
لیں آغوشِ رضاعت میں
ایک زبان شناسِ حیات
خوب پلائیں دودھ انہیں
یہ ہیں منبعِ تعلیمات
دیکھ رہی ہیں ان کے لب
تنقیحات و تصریحات
اے آغوشِ رضاعت سُن
یہ ہیں دریائے حسنات
اے آغوشِ امومت سن!
یہ ہیں دریائے برکات
..............
آپ ہیں وجہِ موجودات
کافِ ’’کُن‘‘ ہے آپ کی ذات
آپ رضائے الٰہی ہیں،
آپ ہیں محورِ تشکیلات
آپ محیطِ ہفت زمان
آپ ہیں مرگزِ ہشت جہات
آپ امام ہیں نبیوں کے
آپ کے ہاتھ میں سب کا ہاتھ
آپ خطیب رسولوں کے
قاموسِ جامع کلمات
آپ خدا سے دور نہیں
آپ ہیں عرش کے دائیں ہاتھ
آپ کا ہمسر کوئی نہیں
اور نہیں یہ فخر کی بات
صبح و مسا ہے آپ کے ساتھ
رعبِ الٰہی کی برسات
آپ ہیں شمشیرِ توحید
حمد کا پرچم آپ کے ہاتھ
آپ صداقت کی تجسیم
آپ کی بات میں حق کی بات
آپ خدا کا خزانہ ہیں
آپ ہیں مخزنِ انعامات
آپ جمالِ جلالت ہیں
اے آقائے ستودہ صفات
آپ کے در پر آیا ہے
طالبِ اجر و اکرامات
آپ کی نذر کو لایا ہے
آپ کے اپنے اعجازات
ایک قصیدہ لایا ہے
جالبِ دہ صد اعزازات
..............
مدح تکوینِ غایات
میری بِساط مِری اوقات؟
میں گلوا، میں کَل ہارا
میرے سائے بھی ظلمات
نوکر کا نوکر ....... کُوکر
میں ریزہ چینِ صدقات
کاجل گھر میں رہتا ہوں
راہ نہیں دیتے حالات
زشت اعمال و زشت سرشت
ناپابندِ صوم و صلوٰۃ
رہ گم کردہ، رُو گرداں
دعویٰ عشقِ عینِؐ ذات
شوق قصیدی کاری کا
وہ بھی بہ صیغۂ حمد و نعت
زعم قصیدہ نگاری کا
زورِ بیاں نہ شکوہ لغات
جدت و ندرت سے عاری
ترکیبات و تشبیہات
نکہت نگہت سے خالی
احساسات و ابلاغات
میں لا علمِ نِکاتِ سخن
شعر طلسمِ رمز و نِکات
لفظ عجیب، خیال غریب
الجھا ووں میں کھو دوں بات
کیا جائز، کیا ناجائز
میں ناواقفِ مکروہات
اوٹ کو اوٹل لکھتا ہوں
میرا مایہ متروکات
تحریریں ہکلاتی ہیں
کر نہیں پاتا ٹھیک سے بات
آپ کے در پر آیا ہوں
اے حُسنِ جامع کلمات
جھاڑ پونچھ کے لایا ہوں
کھلتے لہجوں کی سوغات
..............
آج عطا ہوں ساتھ کے ساتھ
اِذنِ کلام و حُکمِ نجات
ناشائستۂ فن ٹھہرے
ارژنگِ فرہنگ و لغات
آپ کے ہاتھ کا کنکر ہوں
مجھ کو عطا ہوں وہ ابیات
جن کی سند ٹھہریں آقاؐ
چار کتابوں کے صفحات
ایک غزال غزل ٹھہرے
مدّاح دانائے نِکات
آپ جمالِ کمالِ حیات
اجمل و اکمل آپ کی ذات
آپ ضمیرِ آدمؑ ہیں
آپ اذانِ تفضیلات
آپ دعائے خلیلؑ اللہ
آپؐ مناطِ تعمیرات
آپ ادائے ذبیح ؑ اللہ
نا اندیشِ مخطورات
آپ نوائے صفیؑ اللہ
سائرِ کَونِ تنویرات
آپ ہیں یونسِؑ غارِ ثور
آپ ادریسِؑ معقولات
آپ بشارتِ روحؑ اللہ
آپ مسبب کُل نشآت
راجح کی تفضیلِ کُل
آپ ہیں ارجحِ ترجیحات
عیسیٰؑ کو تفصیل ملی
موسیٰؑ کو دس احکامات
آپ کے نُطق کو حق سے ملا
حُسنِ انجیل و تورات
آپ کے دَم سے رَم میں ہے
موجِ غزالانِ غزلات
غزل
ایک غزل کی کیا اوقات
آپ سے حرفِ غزل ہر بات
آنکھ کا نیل نہ ڈھل جائے
راہ نہیں پاتے جذبات
مہجوری کے تن پر ہے
میرے برنن کی بانات
پلکیں بھیگی رہتی ہیں
پتھرا جاتی ہیں ساحات
جھرنے بہتے رہتے ہیں
پتھر رکھتے ہیں جذبات
دھارے پھوٹ نکلتے ہیں
پتھر کہہ دیتے ہیں بات
پتھر پھَٹ بھی پڑتے ہیں
جیسا دُکھ ویسے اثرات
ویرانوں میں چلتے ہیں
دریاؤں کے مسکوکات
کس اینچن میں رہتا ہوں
میرے بال ہیں کس کے ہات
آوازیں ہی آوازیں
اِک چُپ کے سو سو نبرات
آج نہ کاج آئے خالد
ترشے ترشائے لہجات
..............
اے جانِ غزل الغزلات
اے آقائے ستودہ صفات
آنکھوں میں کھُبھ جاتی ہے
بے سایہ بے مثل حیات
آنکھ چرا کر کیا دیکھوں
ارشد و ازہر آپ کی ذات
آپ ہیں تنویرِ اکوان
آپ ہیں کونِ تنویرات
آپ سپیدہ ٔصبحِ ازل
آپ طلوعِ امکانات
آپ سے چاند بھی سورج بھی
آپ کے ہاتھ الواحِ برات
ایک ہتھیلی مہرِ دوام
ایک ہتھیلی ماہِ ثبات
کیا تارے، کیا سیّارے
تکرارِ نورِ حسنات
کیا تحدیثِ نعمت ہو
آپ کا اِک اِک حرف حیات
ہر نیکی، ہر سچائی
آپ کی محکم تنصیبات
اِک کلمے کی مزدوری
روزہ، حج، نماز، زکوٰۃ
کیا جھٹلائیں ، منہ موڑیں
حق ٹھہری ہر اچھی بات
کوئی تضاد نہیں جن میں
آپ پہ اُتریں وہ آیات
چڑھتی دھوپ کی قسمیں ہیں
جن میں ساکن رات کے ساتھ
دن کیا روشن کرتا ہے
کس کو چھپا لیتی ہے رات
کس کا کام سجھا دینا
اول و آخر کس کے ہات
..........
وہ موضوعِ موضوعات
حمد کے لائق بس اک ذات
حمد کا ہر لفظ اُس کے لیے
وہ مِرآتِ معکوسات
اُس کے نام مُعَنْون ہیں
کُل کلماتِ ممدوات
اُس کے نام کی سمرن ہیں
یہ آتے جاتے دن رات
اُس کے نام کی مالا ہیں
یہ چڑھتی گرتی ساعات
وہ رگ رگ میں گرداں ہے
طاری و ساری اُس کی ذات
جو بھی زمین پہ چلتا ہے
اُس کے بال ہیں اُس کے ہاتھ
وہ پانی کو رستے دے
رستوں پر چھت دے باغات
طوفاں سر دُھنتے گزریں
لہروں کو دے وہ نبرات
گونج، گرج، کوندا، کڑکا
وہ تو ہے رعدِ میقات
زیرہ ٔ ریزاں دَل بادل
چڑھتی دھوپ اُترتی رات
اُس کے چَھل میں بھی اِک بَل
چاپ نہیں رکھتیں ساعات
اُس کے قہر کا پیرایہ
آہٹ میں ڈھلتے لمحات
بانگر سے گِرتا دریا
اُس کی قدرت کامِرآت
راہ کی کھڈ میں آن گِرے
کوئی نہ پائے اس کی گھات
راج محل پر آن گِرے
برقِ مَاہُوَ آتٍ آت
سر دے، سر کو سجدے دے
نطق پہ رکھ دے بھاری بات
عزّت و ذلّت کا مالک
دن کو کر دیتا ہے رات
دھرتی اور انتوں کا نُور
معطی و مُرجعِ کُل مافات
ایک کے ہاتھ دھرے دنیا
ایک کے ساتھ کرے درجات
..........
آئے سرِ دریائے فرات
کچھ فلاّحِ کشتِ حیات
قول مُبیں، کردار مُبیں
یہ چہرے ہیں یا آیات
یہ حسنینؑ کا کنبہ ہے
یہ ہیں کوثر کے قطرات
سانچ پہ آنچ نہ آئے گی
جان پہ گزریں گے صدمات
نیزوں پر اُونچے ہوں گے
اسمِ محمدؐ کے رایات
اس میداں میں طے ہوں گے
صبرِ محمدؐ کے درجات
کر لیں سیدھی صف تو حسینؑ
گاڑ تو لیں عباسؓ قنات
صف در صف حُر نکلیں گے
تیر کی سیدھ میں آئے حیات
غولِ بیاباں آ پہنچا
ساتھ ہے ایک قطارِ قُضات
عسکرِ غرّان و غدّار
صرصرِ وحشت کے ذرّات
جن کے لیے ہیں تیغ و تَبَر
کھیتی باڑی کے آلات
کل کو تُرائے چنگیزی
کہلائے گی آج کی بات
سقّے بن کر چلے چچا
دشمن لیں گے ہاتھوں ہاتھ
چَھلنی بن کر ٹپکیں گے
ہاتھ بھی مشکیزے کے ساتھ
غرّہ ٔ غاصِب توڑیں گے
تشنہ دہانِ عراقِ فرات
..........
اے بے پردہ مستورات
آپ کی چادر صبر و صلوٰۃ
ماتھے بَل، سلوٹ نہ شِکن
آپ کا ورثہ ہیں آفات
کیا کیا کڑیل تھے نہ رہے
کس کس کی اُتری بارات
اک جھپکی میں گزر گئی
اک اندھڑ ہتھیاری رات
کس کا بیٹھا تھا اکبرؑ
اصغرؑ تھی کس کی سوغات
ننھی منی سی، ہچکی
ننھی منی سی سبکرات
یہ احمدؐ کی کونپل تھی
کوزے میں تھا بند فرات
سِلّیں کھیت میں باقی ہیں
ان سے پھوٹیں گے باغات
اے بیمارِ کرب و بلا
تجھ پر لاکھوں تسلیمات
لوگ بَسار بِسار چکے
اے فلاّحِ کشتِ نجات
قتل کے فتوے لائے تھے
یہ پیرانِ شطحیّات
غولِ بیاباں جاتا ہے
ساتھ ہے ایک قطارِ قضات
کس نے کنوتی چھینی ہے
کس نے سکینہ سے کی بات
شعر کے لاکھوں ملزومات
درد کے اپنے امکانات
نَک توڑوں سے کیا حاصل
لاکھ ہنر اِک سچی بات
کچ موتی کا کام نہیں
تسطیرِ رَودِ نَبرات
سیدھی سچّی ہوں سطریں
سیدھے سچّے ہوں جذبات
لب تک کیوں رہ جاتی ہے
لب تک آنے والی بات
پلکیں کب تک چھانیں گی
مٹی میں رُلتے لمحات
آپ چراغ ہیں دیں مشکوٰۃ
دین ہے لَو، ضَو آپ کی بات
اے پیغام برِ آخر
آیتِ مطلق آپ کی ذات
آپ کے دَر پر رُکے بغیر
گزر نہیں سکتے لمحات
نورِ ازل، عقلِ اوّل
اول اصولِ تشکیلات
آپ تہوُّر کی تجسیم
آپ تمدّنِ حسیّات
آپ توکلُّ کی تفہیم
آپ تموُّل ِ صبر و ثبات
سیِّد اولادِ آدمؑ
جاہدِ میدانِ غزوات
آپ صراطِ خیر پہ ہیں
مَنبعثِ اخبار و آیات
ختمِ رُسل، دانائے سُبل
ماہِ بُروجِ تنویرات
آپ ایقاں کی بلندی ہیں
نکتے ہیں سارے شبہات
آپ بشر بھی مبشر بھی
آپ رسولِ مخلوقات
میرا دیں، میرا ایماں
آپ کی دونوں حیثیات
آپ میں مٹی کی مہکیں
آپ میں انتوں کی نکہات
..........
آپ کے برجستہ خطبات
گُل رُخ، گُل چہرہ باغات
لاکھ دلائل کے گلشن
چھوٹے چھوٹے سے کلمات
آج بھی سانسیں مہکائیں
آپ کے گلگوں فرمودات
آپ کے نام پہ اے آقا
پھول سے منہ میں پھوٹے بات
کلیوں کی کلکار ملے
مہکاریں پائیں اَصوات
پھولوں سے بھر دیں یہ چنگیر
میرے ہاتھ ہیں میری پرات
..........
آپ کی ایک مہکتی گھات
لاکھ بہاریں بستانات
میری جانب ایک نظر
ایک تبسم کی خیرات
اُورے دُھورے رہتا ہوں
ساتھ ہیں اَن دیکھے خدشات
اندیشے، دھڑکے، کھٹکے
دل کُھٹکے اَن دیکھا ہاتھ
اِک بَل بَل میں رہتا ہوں
پستاروں میں کھوئی حیات
بُزدل، بے ہمت، ڈرپوک
توڑ کے بیٹھ چکا ہوں ہاتھ
خودبیں ہُوں خود آرا ہوں
مجھ سے ٹالیں یہ آفات
ایک مُبین دلیل حضورؐ
میرے دَر پے ہیں ظُلمات
ہاتھ لگے ہیں ہونٹوں سے
دست و لب کے بیچ ہے بات
ہاتھ پکڑ لیں اے آقاؐ
آپ کا ہاتھ ہے حق کا ہاتھ
آپ کی اُنگلی لگ جاؤں
میرے پیچھے ہیں حالات
میرے دل میں رہتے ہیں
اپنی جانب سے خدشات
آپ پہ ظاہر و باہر ہیں
میرے اندر کے حالات
آپ کی کنجک سے پھوٹے
ایک تبسّم کی خیرات
..........
آنکھیں ہیں یا کالی رات
چڑھتی دھوپ ہیں یا نظرات
آپ کا پیکر عدل و کرم
آپ کا سایہ احسانات
آپ کا نام، عُلُوِّ سخن
آپ کا ذکر، عُلُوِّ حیات
کالے، پیلے، سرخ، سفید
آپ کی مُٹھی کے ذرّات
رنگ و نسل، احساب، انساب
مخترعات و مزخرفات
دولت، ثروت، طاقت، تاب
اطلس و الوان و بانات
گر اعمال نہیں اچھّے
سب بے مصرف بے اوقات
دین میں زور زبردستی
متروکات و مکروہات
آپ کے پیروں کے نیچے
دفن ہوئی ہر جہل کی بات
کوئی ہدایت مند تو ہو
کوئی سُنے تو آپ کی بات
..........
جاہ و حشم کے منسوبات
تقویٰ، توکلُّ، عزم، ثبات
کاکُن کاکُلِ گیتی کی
میرے آقا کی ہر بات
آپ کے درجوں پر شاہد
چار کتابوں کے صفحات
میرا مولا گِنوائے
میرے آقا کے درجات
اپنی طرف سے کیا لکھوں
حِفظ ہیں آپ کے ارشادات
میں تو آپ کی پُتلی ہوں
میری ڈور ہے آپ کے ہاتھ
آپ ہیں کنزِ خداوندی
آپ ہیں مُحسنِ مخلوقات
آپ کے دم سے با معنی
عفو، کرم، عدل، احسانات
لَو سے تو ضَو پُھوٹے گی
حسن کے اپنے منسوبات
راہ نمائے راہِ نجات
مأو یٰ و ملجا، آپ کی ذات
میرے دین کی دنیا ہیں
آپ کی نوریں تبشیرات
آپ کے دَم سے چلتی ہیں
انہارِ استشفاعات
اُس کے نام تو دانے ہیں
آپ ہیں سلکِ تسبیحات
وقفہ میانِ رکوع و سجود
قومہ ہے یہ نغمۂ نعت
کوئی شریک نہیں اُس کا
وہ ہے وارثِ موجودات
میں اُس سے شرمندہ ہوں
اے موضوعِ فردیّات
اس کی پکڑ سے چھڑائیں مجھے
رحمت آپ، ارحم وہ ذات
منکرِ ذات کبھی نہ رہا
میں تھا منکرِ تقدیرات
میں نے ہواؤں کو گِرہیں دیں
میں تھا قائلِ تدبیرات
مجھ کو علم نہ تھا آقا
میرے بال ہیں کس کے ہاتھ
کس کے دم سے جلتے ہیں
جگنو بن بن کر ظُلمات
کس کے دم سے چلتی ہیں
ساعت کے اندر ساعات
کس کی پوریں گِنتی ہیں
ساری نبضوں کی ضربات
اس کے قہر سے ڈرتا ہوں
آپ کا قہر بھی مجھ کو حیات
آپ کی ناراضی بھی اَجر
آپ کی زَجر بھی مجھ کو زکوٰۃ
رحمت کے ساون کی جھڑی
اِک اِک بوند بھری برسات
ساون کا اندھا ہوں میں
مجھ کو نہ سوجھے دوجی بات
ہنستے ہی گھر بستے ہیں
رحمت آپ، ارحم وہ ذات
ہنس مکھ ہنستی پیشانی
ایک تبسم کی خیرات
چارہ کارِ دل زدگاں
چارہ سازِ کارِ حیات
آپ کے بال بندھے بالے
ہانک پُکار بھرے لمحات
کعبے کی چھت پر ہیں بلالؓ
یہ ہیں انساں کے درجات
آپ نے واپس دلوائیں
انسانوں کی مملوکات
آپ سے مجھ جیسوں کو ملیں
عزّ و شرف سی مسلوبات
..........
آپ نگہبانِ حرمات
آپ محافظِ تودیعات
راجہ آپ کی راجائی
استقلال، قیام و ثبات
کوہ کمر کھولیں آقاؐ
دیکھ کے آپ کے عزمِ حیات
آپ نبوت کا اِتمام
آپ اِمامت کا اِثبات
..........
وجہِ تمدُّنِ تغیرات
صورتِ تعدیلِ ثورات
سیدھی راہ سُجھانے کو
حق نے بھیجی آپ کی ذات
سیدھی راہ دکھانے کو
آپ کے نطق پہ اُتری بات
سیدھی رات چلانے کو
حق نے بڑھایا آپ کا ہاتھ
قرآن تک سی ٣٠ پارہ ہے
کھول کے رکھ دی ہیں آیات
آپ کے ہاتھ ہیں حق والے
آپ کا ساتھ ہے حق کا ساتھ
آپ کے چار جلیس اَنیس
چاروں آپ کی تنویرات
اک صدیقؓ اکبر ہیں
اک فاروقؓ فرعیّات
ایک کرن عثمانؓ غنی
ذوالنورین ہے جن کی ذات
اِک گُل بانگِ خیر علیؑ
بابِ شہرِ دینیّات
وہ بُرّاقِ بُراق نشیں
حمّالِ جامع کلمات
دو تارے ہیں حسینؑ و حسنؑ
سمت الرّاس ہے آپ کی ذات
آپ کی جانب تکتا ہے
ایک ہلاکِ صد ثورات
..........
نورِ چرخِ تمجیدات
صد اَواردِ تسلیمات
خالی کاغذ لایا تھا
مدح سرائے جہانِ صفات
اور مرتب کر بیٹھا
ایک طلسماتِ اصوات
شاعر ساحِر بن بیٹھا
پگھلے پڑے ہیں نبرات
پارس گھڑنے بیٹھا تھا
سونا کر بیٹھا ہے ہاتھ
کرنیں تھامے بیٹھا ہے
ایک اسیرِ تنویرات
..........
آہنگِ چنگِ حاجات
ہر رامش گر کے نغمات
اَجر طلب اللہ سے ہے
مجذورِ صد تصدیعات
اک ندّاف ندامت پر
میرے آقا رکھ دیں ہاتھ
آپ رسولِ مثبّت ہیں
وہ ہے مجیبِ کُل دعوات
ہر صورت وہ بے صورت
جس کے ہیولے ہیں دن رات
ہر اَنکار وہ نِر اَنکار
نِرگُن اک اللہ کی ذات
دیکھ رہا ہے آپ کا ہاتھ
غرقِ دریائے ازمات
آپ ہیں روشنیٔ دانش
آپ ہیں مصدرِ معقولات
اک درویشِ رسول شہی
ڈھا بیٹا ہے تحریمات
ایک نموہا بے چارہ
ایک نمانا ایک نکات
جنگل کھیت، نہ گاؤں گھر
دُکھ میں ڈھونڈے سُکھ کی بات
آپ ہی جھاڑیں پونچھیں گے
مٹی میں لتھڑی لعبات
کیا رونا کیا رریانا
کیا پَل پَل کرّات و مرّات
دن بھر آپ میں دھیان رہے
آپ کے ساتھ رہوں ہر رات
آپ کی دید کا خواہاں ہوں
مجھ پر برسے یہ برسات
شاذ ہی وارد ہوتے ہیں
قرنوں پر بھاری لمحات
ہاتھ پسارا ہے میں نے
دیکھ رہا ہوں آپ کا ہاتھ
حرفِ مثاب بنےیہ نعت
اَلْاَعْمَالُ بِالنِّیَاتِ
زمزمۂ مزمورِ زبور
ٹھہریں خالد کی اَبیات
آپ محیطِ محاطِ صفات
ایک قلم ..... ابیات مئات
ہاتھ پسارا ہے میں نے
دیکھ رہا ہوں آپ کا ہاتھ
حرف مثاب بنے یہ نعت
اَلْاَعْمَالُ بِالنِّیَاتِ
ہر کنگال کنک مانگے
خاک نکالوں مُنہ سے بات
اک بیٹی دو بیٹے ہیں
تینوں پر ہوں آپ کا ہاتھ
آپ کی ہو آواز نِدا
خوش احساس و خوش جذبات
شرم و حیا کے آویزے
کان میں ڈالیں اچھی بات
آپ کا جاہد ہو ..... جاہد
خوش کردار و خوش عادات
آپ کا نمر ہو نمر احمد
خوش اطوار و خوش جذبات
تینوں پر چار انعامات
نیکی، صحت، علم، حیات
نیگ گُمان و نیک سرشت
خوش ایقان و خوش جذبات
اِک امّوں، اِک امّی جان
میرے بچّوں کی سوغات
میرے آقا کے مولا
اکرامِ تطویلِ حیات
ایک مرے نانا پہ کرم
ایک مرے دادا پہ نجات
ایک میاں، ایک ابّو جان
اُونچے ہوں اُن کے درجات
دو بھائی طارق، تقدیس
وہ معصوم ہوں باپ کے ساتھ
میرا ایک ہی ماموں تھا
واری جس نے مجھ پہ حیات
آپ کے عابد کے صدقے
وہ بیمار بھی پائے نجات
آپ کی رحمت سے اس کو
ملیں شہیدوں کے درجات
عابدہ تھی ہم شِیر مری
اُس پہ نجات کے اِکرامات
باپ کی جا ہیں ندیم مجھے
جن کا سہارا آپ کی ذات
تائب ہیں مجھے بھائی کی جا
مداحِ دانائے نِکات
اختر، کاظم، فاروقی
اور حمید کا دے کر ساتھ
آپؐ نے مجھ سے بگولے کو
بخشا رنگِ سکونِ حیات
چاروں میرے محسن ہیں
چاروں پر کُل انعامات
حافظ عبدالباقی پر
آپ کے قرب کی ہو برسات
میرے یار قدیم پہ بھی
وا ہوں ابوابِ جنّٰت
گوہر، نقوی، نجیب، عطا
چاروں پر کُل اکرامات
آقا یہ دلشاد رہیں
یہ ہیں آپ کے انعامات
لہنا بہنا ساجھا ہے
چاہوں ساجھے اکرامات
میری بہنوں پر اکرام
میرے بھائی پر برکات
عائشہ اور خدیجہ پر
آپ کے ہوں اکرامات
ہاجرہ، طاہرہ، شاہدہ پر
آپ کے ہوں خاص انعامات
ان کی جنت اُن کے گھر
دُور رہیں اِن سے آفات
اب توصیف پہ کھل برسیں
صحتِ کاملہ کے صدقات
ایک بہن ہے رضاعی بھی
اُس پہ ہو خوشیوں کی برسات
سر کا تاج رہے اُس کا
موردِ ابرِ اکرامات
میں ہوں میری بیوی ہے
آپ اُٹھائیں میری بات
میں نے اُنگلی چوسی ہے
میں کیا جانوں قند و نبات
آپ کی اوٹل میں رہ کر
میں نے دیکھے ہیں دن رات
میرا شہر ہے میرا گھر
میرا وطن ہے میری حیات
آپ کی ہاتھوں چھاؤں رہوں
میں بھی اپنے وطن کے ساتھ
جُھوٹا قفل نہیں ہوں میں
میری کلید ہے آپ کے ہاتھ