وہ ایک رات کہ مائیں بچھڑنے لگتی ہیں
وہ ایک رات کہ مائیں بچھڑنے لگتی ہیں وہ ایک صبح کہ مانگیں اُجڑنے لگتی ہیں مرے خدا مرے اشکوں کی سطر کون پڑھے مری زباں میں تو گِرہیں سی پڑنے لگتی ہیں وہ ایک بات میں ہر بات بھول جاتا ہے ہوائیں جیسے ہواؤں سے لڑنے لگتی ہیں تمام دن وہی راہیں سفر پہ اکسائیں سفر کی رات جو پاؤں پکڑنے لگتی ہیں فقیہہِ شہر سے بھی تنگ دل ہیں یہ گلیاں ہجوم دیکھ کے سڑکیں سکڑنے لگتی ہیں فقیر کو نظر انداز کیا کرے کوئی کہ گدڑیاں بھی تو اک دن اُدھڑنے لگتی ہیں وہ اک نگاہ کہ خالدؔ سرِ نگاہ نہیں مرے بدن میں تو کیلیں سی گڑنے لگتی ہیں