کر لے نہ لکیروں میں گرفتار مجھے بھی
-
کر لے نہ لکیروں میں گرفتار مجھے بھی وہ، نقش نہ کر دے سرِ دیوار مجھے بھی دنیا مجھے دیکھے، مجھے سمجھے، مجھے چاہے اتنا، تو، اب اِس سے ہے سروکار مجھے بھی میں راہ کی دیوار سمجھتا رہا اُس کو سایہ ہی سمجھتی رہی دیوار مجھے بھی برباد بھرے شہر ہوئے جس کی طلب میں کیا کرتا کہ اس شخص سے تھا پیار مجھے بھی یہ شہر تو حجرہ ہے ترے دل زدگاں کا آباد رکھ اِک کُنج میں، اے یار! مجھے بھی کس رَو میں کناروں سے نکل آئیں یہ دریا آ لیں نہ کسی دن مرے معیار مجھے بھی