خالد احمد

خالد احمد

ربط کس سے تھا کسے، کس کا شناسا کون تھا

    ربط کس سے تھا کسے، کس کا شناسا کون تھا شہر بھر تنہا تھا، لیکن مجھ سا تنہا کون تھا مَیں سمندر تھا، مگر ویراں تھا صحرا کی طرح میرے گھر تک چل کے آتا، اتنا پیاسا کون تھا سطح پر خاموشیوں کی گونج ہے نوحہ کناں اپنی گہرائی کے دریا میں جو ڈوبا کون تھا ذات آخر ذات تھی، شہکار پھر شہکار تھے کس کے فن کے واسطے سے، کس کو سمجھا کون تھا وہ بھڑک اُٹھا تو خالدؔ سوچتا ہی رہ گیا خوب رُو پیکر کے اندر تُند خُو سا کون تھا