خالد احمد

خالد احمد

اس طرح پھوٹ کے رویا کوئی

    اس طرح پھوٹ کے رویا کوئی بے کسوں کا نہیں گویا کوئی شور میں گونجتے سنّاٹوں کے وا کرے کیا لبِ گویا کوئی سنگ دل جب بھی کوئی یاد آیا لگ کے دیوار سے رویا کوئی لُوٹ کر بھی کوئی بے چین رہا لُٹ کے بھی چین سے سویا کوئی حشر ساماں ہوئیں ویراں آنکھیں پھر کسی خواب میں کھویا کوئی