خالد احمد

خالد احمد

وہ مل گیا ہے تو پھر پیار کر کے دیکھتے ہیں

    وہ مل گیا ہے تو پھر پیار کر کے دیکھتے ہیں نئے سرے سے یہ غم پار کر کے دیکھتے ہیں یہیں کہیں سخنِ انگبیں کا چشمہ تھا طوافِ لالۂ رُخسار کر کے دیکھتے ہیں وہ تتلیاں وہ اُڑانیں نہ قید ہم سے ہوئیں سو، اب مہک یہ گرفتار کر کے دیکھتے ہیں ہم انگ انگ سبھی رنگ بھر کے دیکھ چکے اب اُس کو نقش بہ یک بار کر کے دیکھتے ہیں کسی کے حسن کا انکار کفر ہے خالدؔ سو اپنے عشق کا انکار کر کے دیکھتے ہیں