رات بھر مجھ کو چراغوں نے ٹھہرنے نہ دیا
-
رات بھر مجھ کو چراغوں نے ٹھہرنے نہ دیا میں وہ لو تھا جسے سورج نے ابھرنے نہ دیا کس قدر پیار تھا اے جاں! تمہیں اِس دنیا سے اسی دنیا نے تمہیں پیار بھی کرنے نہ دیا تم تو خوشبو تھے، ہواؤں نے تمہیں اپنایا پاؤں تک تم کو مری خاک پہ دھرنے نہ دیا فیصلے دل کی گواہی پہ نہیں ہوتے ہیں کیا پتہ سنگ کا تم کو مرے سر نے نہ دیا جی سے چاہا تھا اگر مر نہ سکوں، زندہ رہوں ڈوب مرنے نہ دیا، پار اُترنے نہ دیا