روز تجھ کو قریہ قریہ ڈھونڈنے جاتا ہوں میں
-
روز تجھ کو قریہ قریہ ڈھونڈنے جاتا ہوں میں روز اک دشتِ محبت چھان کر آتا ہوں میں اے فراتِ چشم! اُٹھ، اے دجلہ فریاد! چل ماتم، اے دِل! کارِ گریہ بھولتا جاتا ہوں میں خود فراموشی کے پیچھے غم فراموشی نہ ہو آ، کہ آدابِ محبت بھولتا جاتا ہوں میں شام سے تا صبح تیری راہ تکتا ہوں مگر روز آدھے راستے میں تھک کے سو جاتا ہوں میں ایک چہرہ اوجھل اِن آنکھوں سے ہو پاتا نہیں ایک میّت ہے کہ کفناتا نہ دفناتا ہوں میں