خالد احمد

خالد احمد

زمیں کو پھول، فضا کو گھٹائیں دیتا ہے

    زمیں کو پھول، فضا کو گھٹائیں دیتا ہے مجھے فلک سے وہ اب تک صدائیں دیتا ہے وہی نواگرِ عالم، خدائے صوت و صدا وہی ہوا کو فقط سائیں سائیں دیتا ہے وہی کہیں گلِ نغمہ، کہیں گلِ نوحہ وہی غموں کو سُروں کی قبائیں دیتا ہے وہ کوہسارِ تحیّر، وہ آبشارِ ندا خموشیوں کو بھی کیا کیا ندائیں دیتا ہے کوئی تو روئے لپٹ کر جوان لاشوں سے اسی لیے تو وہ بیٹوں کو مائیں دیتا ہے