خالد احمد

خالد احمد

وقت کے ساتھ تقاضوں کو بدل جانا تھا

    وقت کے ساتھ تقاضوں کو بدل جانا تھا تجھ کو اے صبحِ ستم! شام کو ڈھل جانا تھا بے جہت فکر کے ہاتھوں میں کماں کیوں دی تھی اب ہدف تو ہے تو کیا؟ تِیر کو چل جانا تھا پھیر قسمت کا بتا، حسنِ تدبر نہ جتا تجھ کو بہلانا تھا، لوگوں کو بہل جانا تھا بات کیا لوگ تو تحریر سے پھر جاتے ہیں تُو نے کیوں میرا ہر اک لفظ اٹل جانا تھا آگ بھی شور ہے، چیخیں بھی لویں ہیں خالدؔ سُر ملے یا نہ ملے’روم‘ تو جل جانا تھا