خالد احمد

خالد احمد

دوئی ہوئی یک رُو مجھ میں

    دوئی ہوئی یک رُو مجھ میں میں تجھ میں ہوں، تُو مجھ میں آہ، سخن ہو جانے تک چلتی ہے اک لُو مجھ میں کب دم بھر دم لیتے ہیں رَم خوردہ آہو مجھ میں آنسو ہے، یا، تارا ہے جھانک کے دیکھ کبھو مجھ میں کس یوسف کو روتا ہے اک یعقوب گلو مجھ میں اَب تک ٹھاٹھیں مارتا ہے دیکھ کے تجھ کو، لہو مجھ میں