خالد احمد

خالد احمد

دیکھ تو اے دلِ تیرہ! ترے گھر کون آیا

    دیکھ تو اے دلِ تیرہ! ترے گھر کون آیا اشک بن کر مری آنکھوں میں اُتر کون آیا دستِ غم نے دلِ دریا میں اتارا کس کو دائرہ بن کے سرِسطح ابھر کون آیا وہی صورت، وہی حسرت، وہی چاہت کہ جو تھی حیرتی کس کا رہا اور نظر کون آیا بادباں تار ہوئے چاکِ گریباں کی طرح مجھ سے ملنے کے لیے بن کے بھنور کون آیا دل و جاں کیا؟ در و دیوار دمک اُٹھے تھے رات کمرے میں بہ اندازِ سحر کون آیا سبھی آنکھوں پہ ہیں پلکوں کی نقابیں خالدؔ کون دیکھے گا کہ سرِ راہ گزر کون آیا