جُرمِ خواہش کی سزا پاؤں گا، پچھتاؤں گا مَیں
-
جُرمِ خواہش کی سزا پاؤں گا، پچھتاؤں گا مَیں ایک دن تیری نگاہوں سے بھی گِر جاؤں گا مَیں تُو فقط دیکھے گا مجھ کو، چھُو نہ پائے گا مجھے تجھ سے ملنے، سایہ بن کر تیرے گھر آؤں گا مَیں تیرے پیکر کی شعاعیں میرے فن کا رنگ ہیں ہُو بہو اک دن تری تصویر ہو جاؤں گا مَیں سوچتا ہوں تو نے کیوں بے مدّعا لوٹا دیا شہر میں اب کس کے آگے ہاتھ پھیلاؤں گا مَیں دوستوں کی بھیڑ میں خالدؔ کہاں یاد آئے گا ذہن سے تیرے بھی اک دن محو ہو جاؤں گا میں