دیکھنا یہ ہے کہ ہم کیوں سرِ کہسار آئے
-
دیکھنا یہ ہے کہ ہم کیوں سرِ کہسار آئے قد بڑھانے اگر آئے ہیں تو بے کار آئے آنکھ کیا، تن کی طرح روح بھی نم ہو جائے کاش اس سمت کچھ اس روز کی بوچھار آئے تجھے لہجے فرصت نہ ملی تو مجھے رخصت کرنے ترا لہجہ، ترا چہرہ، ترے رُخسار آئے کس کو معلوم کہ کس دم کوئی پل آپہنچے کون سے موڑ پہ کس چاپ کی مہکار آئے وہی بھائی، وہی بھاؤ، وہی قدریں خالدؔ کیا توقع کوئی لے کر سرِ بازار آئے