یوں ملاقاتیں ادھوری چھوڑ کر جاتے نہ تھے
یوں ملاقاتیں ادھوری چھوڑ کر جاتے نہ تھے تم تو میری دُکھ بھری باتوں سے اکتاتے نہ تھے تم تو پہلو میں مچل جاتے تھے خواہش کی طرح تم تو جذبوں کو فقط لفظوں سے بہلاتے نہ تھے کس قدر احساسِ ناموسِ محبت تھا تمہیں تم تو رو دیتے تھے ماتھے پہ شکن لاتے نہ تھے میری پوریں یوں تمہارے لمس کو ترسی نہ تھیں تم تو میرے پاس سے ایسے گزر جاتے نہ تھے یوں تو تنہا تھے مگر احساسِ تنہائی نہ تھا لوگ لمحوں کی طرح صدیوں سے کتراتے نہ تھے چلتے چلتے فاصلوں کی روح ہو جاتے مگر لوگ آدھے راستے سے لوٹ کر آتے نہ تھے بستیوں سے جنگلوں کی سمت جاتے تھے مگر شہر کی پہنائیوں میں گھِر کے کھو جاتے نہ تھے تم تو اس سے دُور تھے لیکن وہ خود سے دُور تھا تم تو خالد کی طرح خالد سے کتراتے نہ تھے