ذہن میں یادِ یار سا، کچھ ہے
-
ذہن میں یادِ یار سا، کچھ ہے ایک جھلمل غبار سا، کچھ ہے آج دل کی وہ چھب وہ دھج نہ سہی ہجر میں داغدار سا کچھ ہے ایک ضرب اور اے حواس شکن آج رگ رگ خمار سا، کچھ ہے پھول ہیں، تتلیاں ہیں، آنچل ہیں چار سُو، انتشار سا کچھ ہے آہٹوں کے چراغ جلنے لگے شام سے انتظار سا کچھ ہے بار ور شاخ شاخ ہے لیکن خم بہ خم انکسار سا کچھ ہے پگڑیوں کے حصار سے آگے تخت پر تاجدار سا کچھ ہے زیبِ پا، بیڑیاں نہیں خالدؔ حلقہ اختیار سا کچھ ہے