غم فراہم ہیں مگر ان کی فراوانی نہیں
-
غم فراہم ہیں مگر ان کی فراوانی نہیں اے گراں جانی، یہاں کوئی بھی آسانی نہیں چار سو، اک برف بستہ عہدِ نم کا راج ہے دھوپ میں حدّت نہیں، دریاؤں میں پانی نہیں زندگی کے دکھ ازل سے زندگی کے ساتھ ہیں لوگ فانی ہیں مگر لوگوں کے دکھ فانی نہیں روئی کے گالوں کی چادر بچھ گئی اس سال بھی ایسا لگتا ہے کہ یہ بادل بھی بارانی نہیں زندگی بھر صرف اسے پوجا مگر گھر بیٹھ کر پاسدارانِ وفا کا کام دربانی نہیں