کس کو چھو کر ماہتابی ہو گیا
-
کس کو چھو کر ماہتابی ہو گیا جھیل کا پانی شہابی ہو گیا شام لہروں میں کھلی کس رنگ کی یہ کنارہ بھی گلابی ہو گیا ٹھوڑیوں تک گردنوں میں طوق ہیں رنگِ دنیا احتسابی ہوگیا حادثوں نے کر دیا شاعر مجھے کام یہ بھی اکتسابی ہو گیا آدمی کیا عکس تک پتھرا گئے آئنہ شہرِ خرابی ہو گیا