شہر جاگے تو ہمیں خون میں تر دیکھیں گے
-
شہر جاگے تو ہمیں خون میں تر دیکھیں گے سنگ آنکھیں نہیں رکھتے ہیں کہ سر دیکھیں گے بند ہو جائیں گے تالوں کی طرح دروازے لوگ گھر بیٹھ کے لوگوں کا ہنر دیکھیں گے کیا خبر گاؤں کا ہر گھر ترے گھر جیسا ہو یہی باتیں کبھی چوپال میں کر دیکھیں گے یوں نہتّوں کو نہ بھڑکاؤ خدارا خالدؔ ہم میں کچھ لوگ تو ایسے ہیں کہ مر دیکھیں گے