آنکھ سے ضبط کے پھول جھڑ جائیں گے
-
آنکھ سے ضبط کے پھول جھڑ جائیں گے دیکھ لینا ہم اک دن اُجڑ جائیں گے ہم بتانِ انا، پیار کے دیوتا ٹوٹ کر بھی ترے پاؤں پڑ جائیں گے کاٹ دے گی ہمیں سحرِ زر کی قلم آئنے آئنوں سے بچھڑ جائیں گے سطح پر کھینچ لے، شک بھرے دائرے عکس جتنے ہیں دل میں بگڑ جائیں گے آج خالد ہمیں کاش جینے ہی دیں چوکھٹوں میں جو کل ہم کو جڑ جائیں گے