خالد احمد

خالد احمد

ترکِ تعلقات پہ رویا نہ تُو نہ میں

    ترکِ تعلقات پہ رویا نہ تُو نہ میں لیکن یہ کیا کہ چین سے سویا نہ تُو نہ میں حالات کے طلسم نے پتھرا دیا مگر بیتے سموں کی یاد میں کھویا نہ تُو نہ میں ہر چند اختلاف کے پہلو ہزار تھے وا کر سکا مگر لبِ گویا نہ تُو نہ میں نوحے فصیلِ ضبط سے اُونچے نہ ہو سکے کھُل کر دیارِ سنگ میں رویا نہ تُو نہ میں جب بھی نظر اُٹھی تو فلک کی طرف اُٹھی برگشتہ آسمان سے گویا نہ تُو نہ میں