یہ میں نہیں، مرا پَرتَو نہیں، یہ میں تو نہیں
-
یہ میں نہیں، مرا پَرتَو نہیں، یہ میں تو نہیں گماں سا کیوں مجھے گزرا؟ کہیں یہ میں تو نہیں مری طرح کہیں شائستہ وفا ہی نہ ہو وہ شخص کتنا حسیں ہے، کہیں یہ میں تو نہیں دیارِ دل میں رُلانے پہ کون روتا ہے یہ سب ہیں اہلِ غم اپنے تئیں یہ میں تو نہیں یہ ماہ و سال کی دیمک کے بُھر بُھرے گھر ہیں یہ کس کا تن ہے؟ تہِ پوستیں! یہ میں تو نہیں یہ مجھ کو چھو کے گزرتا چلا گیا خالدؔ مہک رہا ہے جو مجھ میں، کہیں یہ میں تو نہیں