سہیل احمد خان

سہیل احمد خان

کیمیا گر

    ’’لو آگ جلائی ہے میں نے تم اس میں جلو۔‘‘ یہ تم نے کہا جو تم نے کہا، وہ میں نے سنا اس آگ میں تنہا اتر گیا مرے بال جلے جنگل کی طرح بھٹی سے اٹھا لمحوں کا دھواں مرے ساتھ جلے چاند اور سورج مرے ساتھ جلیں کتنی صدیاں پھیلے تے مرے چاروں جانب شعلوں کے مکاں، شعلوں کے نگر جب آگ میں جل کر آگ ہوئے وہ آگ تھی اور نہ اس کی خبر میری رنگت بدل گئی کیسے تم کون تھے اب یہ راز کھلا کس آنچ کی رہ گئی مجھ میں کمی مرا کیمیا گر مجھے بھول گیا