سہیل احمد خان

سہیل احمد خان

پانی

    اک لہر کہیں دریا سے اٹھی دریا ہی میں آخر گم بھی ہوئی جب لہر اٹھی، تب پانی تھا جب لہر مٹی، پانی ہی رہا