خواب
اپنے دادا کو سنایا میں نے خواب: ’’میں نے دیکھا اک مکاں جس کی دیواریں گلابی اور نیلی جالیاں اس کی چھت پر ایک گنبد جس پہ بیٹھے تھے کبوتر زعفرانی، جوگیا اور کاسنی گھر کے آگے ایک فوارے کا پانی، ایک حوض کچھ پرندے جس سے کرتے تھے وضو!‘‘ میرے دادا چونک اٹھے ایک ہلکا تبسم ان کے ہونٹوں پہ کھلا چند لمحوں کے لیے یوں سوچ میں ڈوبے کہ جیسے اپنے اندر ڈھونڈتے ہوں کوئی شے پھر وہ یوں گویا ہوئے: ’’میرے والد اک جہاں گشت آدمی تھے قافلوں کے ساتھ جاتے تھے تجارت کے لیے دور کے ملکوں کے پھر قصے سناتے تھے ہمیں ایک بار ان سے سنا تھا اک مکاں کا تذکرہ حوض، فوارہ، کبوتر، جالیاں، دیوار و در، ہو بہو نقشہ تمہارے خواب کا وہ بخارا کی گلی تھی جس میں تھا ایسا مکاں جس کی دیواریں گلابی اور نیلی جالیاں۔‘‘