سہیل احمد خان

سہیل احمد خان

مشابہت

    صبح دم باغ کو جو دیکھتا ہوں اس کی شادابیوں کے گھیرے میں جنتوں کا خیال آتا ہے جب میں کھلتے گلاب کو دیکھوں تیرے چہرے کے رنگ آنکھوں میں ایک لمحے کو تیر جاتے ہیں یہ جہاں ہے مشابہت کا فسوں راہ میں جو بھی شکل دیکھتے ہیں اور اک شکل یاد آتی ہے