سہیل احمد خان

سہیل احمد خان

دل دریا

    ایک طرف دریا کا کنارا، ایک طرف تھا دل دریا میں موجوں کی روانی موجوں میں بہتی حیرانی دل میں بھی منجھدار اس کی حیرت اپنے ڈھب کی، جس کے رنگ ہزار پہلے دل دریا میں ڈالا پھر دریا کو دل میں حیرت جب حیرت میں ڈوبی دل دریا میں، دریا دل میں تیرا، ڈوبا، ڈوبا، تیرا