سہیل احمد خان

سہیل احمد خان

ایک گرتی سنبھلتی نظم

    ہوا تھم گئی چلتے چلتے شاخ ساکن ہوئی ہلتے ہلتے بھورے بادل ٹھہر ہی گئے اڑتے اڑتے میں چلتا رہا گرتے گرتے سنبھلتے سنبھلتے