سہیل احمد خان

سہیل احمد خان

واپسی کا گیت

    ’’خزاں کی اک شام ہم پلٹ کر آئیں گے‘‘..... سینت جون پرس (١) خزاں کی اک شام، جب ہواؤں کی سیٹیوں میں گھلا ہوا کرب پورے قصبے میں گونجتا ہو، زمیں پہ پتوں کے ڈھیر، گزرے دنوں کے انبار لگ رہے ہوں فضاؤں میں شام نے عجب سرخیاں بکھیری ہوں چاروں جانب، خزاں کی ایسی ہی شام شاید ہمارے لمبے سفر کا رستہ ہمارے قصبے کی رہ گزر سے کہیں ملے گا پلٹ کے آئیں گے اور کہیں گے: ’’سنو، کوئی ہے، کوئی شناسا۔‘‘ پرانے قصبے کی کھڑکیوں میں دیے جلانے کی رسم شاید اُسی طرح ہو گھروں کے آگے کھڑے ہوں ہم یاد کر رہے ہوں یہ کن کے گھر ہیں پھر اس محلے کی سمت آئیں جہاں پرندوں کی طرح ہم ڈولتے تھے ہر سُو نجانے اب وہ کنویں ہے باقی جہاں محلے کی لڑکیاں پانی بھرنے آتیں مگر یہ تب ہو خزاں کی اک شام جب ہمارے سفر کا رستہ ہمارے قصبے کی رہ گزر سے ملے کہیں پر مگر سفر میں کون جانے وہ لوگ جن کی طرف پلٹنے کی آرزو ہے کہیں سفر پر چلے گئے ہوں گلی محلے میں کوئی واقف نہ ڈھونڈ پائیں کنویں کا کوئی نشان باقی نہ بچ سکا ہو مگر یہ خواہش خزاں کی اک شام آسماں کے سلگتے رنگوں میں، گرتے پتوں میں لوٹنے کی عجیب خواہش ہمارے پورے وجود میں جل رہی ہے جیسے ہمارے قصبے کی کھڑکیوں میں دیوں کے جلنے کی روشنی ہو (٢) سفر، مسلسل دنوں، مہینوں، گزرتے برسوں میں جیسے صدیوں میں یہ سفر ہے طویل راہیں جو لمبے رسے کی طرح کھلتی ہی جا رہی ہوں جو سانپ کی طرح بل بھی کھائیں کہیں پہ چکرا کے گر رہی ہیں اور ان میں اڑتے ہوئے بگولے ہواؤں کے تیز کاروانوں کے اُڑتے نوحے سفر، مسلسل نجانے ہم دائروں کی گردش ہیں یا کسی سیدھ کا اُدھورا سا مرحلہ ہیں یہی خبر ہے بس اک سفر ہے ... ہمارے چھوٹے گھروں کی یادیں دنوں سے برسوں میں اور صدیوں میں پھیلتی ہیں (٣) ہمارے رستے میں ساحلوں سے پرے کے شہروں کے ناچ گھر، اجنبی شبستاں اُجاڑ گاؤں کہیں پرانی سی خانقاہوں میں جلتی شمعیں کہیں پرندوں کی موسمی ہجرتوں کے منظر کہیں پہ قصبوں کے میلے ٹھیلے سرائیں، رستوں کے قہوہ خانے کہیں پہ غارت گری کے قصے کہیں پہ رستوں میں خون، لاشیں کہیں کسی جل پری سے ملنے کی داستانیں کہیں سمندر کے پاس گھونگھوں سے بات کرنا کہیں کنارے کی ریت پر رفتگاں کی یادیں (٤) سفر میں جیسے سفر میں سب کچھ مدام گردش میں چاند، تارے کسے خبر ہے کہ کتنے سیارے گھومتے ہیں بس ایک نغمے کی گونج ہے کائنات میں ہم جدھر بھی جائیں اس ایک نغمے اس ایک لمحے کی اوٹ سے جس طرف بھی دیکھیں سفر میں دنیا مسافروں کا ہجوم چلتی ہوئی ٹرینیں بسیں، ٹرامیں جہاز نیلے سمندروں میں جہاز اڑتے ہیں بادلوں میں ہوائی اڈے مسافروں سے بھرے ہوئے ہیں (٥) نجانے گھر لوٹنے کی مہلت ملے گی کب تک؟ سفر کی گردش سے تھک رہے ہیں اگر کوئی ہم سفر مغنی ہے گیت گائے اُسے تو گھر کی طرف پلٹتے کسی مسافر کے رزمیے کے تمام اشعار یاد ہوں گے