ظِلِّ سُبحانی
-
جراحوں نے ڈرتے ڈرتے کھولا ظلِّ سبحانی کے دل کو کیسے کیسے راز چھپے ہوں جانے ہوں کیا کیا منصوبے اندر نکلا کچرا کچرے میں سونے کے سکّے جمے ہوئے تھے اک شریان میں جاسوسوں کے نقلی چہرے اٹک گئے تھے کوڑے کے چمڑے سے بنا تھا دل کا چمڑا (زبگنیو ہربرٹ کی ایک نظم سے متاثر ہو کر)