کام آخر جذبہ بے اختیار آ ہی گیا
-
کام آخر جذبہ بے اختیار آ ہی گیا دل کچھ اس صورت سے تڑپا، ان کو پیار آ ہی گیا جب نگاہیں اٹھ گئیں، اللہ رے معراجِ شوق دیکھتا کیا ہوں کہ وہ جانِ بہار آ ہی گیا ہاں سزادے، اے خدائے عشق، اے توفیقِ غم پھر زبانِ بے ادب پر ذکرِ یار آ ہی گیا اس طرح خوش ہوں کسی کے وعدۂ فردا پہ میں در حقیقت جیسے مجھ کو اعتبار آ ہی گیا ہائے کافر دل کی یہ کافر جنوں انگیزیاں تم کو پیار آئے نہ آئے، مجھ کو پیار آ ہی گیا جان ہی دے دی جگر نے آج پائے یار پر عمر بھر کی بے قراری کو قرار آہی گیا