جگر مراد آبادی

جگر مراد آبادی

محبت کار فرمائے دو عالم ہوتی جاتی ہے

    محبت کار فرمائے دو عالم ہوتی جاتی ہے کہ ہر دنیائے دل شائستہ غم ہوتی جاتی ہے ہر اک صورت، ہر ایک تصویر، بہم ہوتی جاتی ہے الٰہی! کیا مری دیوانگی کم ہوتی جاتی ہے جہاں تک توڑتا جاتا ہوں رسمِ ظاہر و باطن دلیلِ عاشقی اتنی ہی محکم ہوتی جاتی ہے جہاں تک دل کا شیرازہ فراہم کرتا جاتا ہوں یہ محفل اور برہم اور برہم ہوتی جاتی ہے تصور رفتہ رفتہ اک سراپا بنتا جاتا ہے وہ اک شے جو مجھی میں ہے، مجسم ہوتی جاتی ہے وہی ہے زندگی لیکن جگر یہ حال ہے اپنا کہ جیسے زندگی سے زندگی کم ہوتی جاتی ہے