کچھ اس ادا سے آج وہ پہلو نشیں رہے
-
کچھ اس ادا سے آج وہ پہلو نشیں رہے جب تک ہمارے پاس رہے، ہم نہیں رہے جا اور کوئی ضبط کی دنیا تلاش کر اے عشق! ہم تو اب ترے قابل نہیں رہے مجھ کو نہیں قبول دو عالم کی وسعتیں قسمت میں کوئے یار کی دوگز زمیں رہے دردِ غمِ فراق کے یہ سخت مرحلے حیراں ہوں میں کہ پھر بھی تم اتنے حسیں رہے اللہ ری چشمِ یار کی معجز بیانیاں ہر اک کو ہے گماں کہ مخاطب ہمیں رہے اس عشق کی تلافئ مافات دیکھنا! رونے کی حسرتیں ہیں، جب آنسو نہیں رہے