وصل سے شاد کیا، ہجر سے ناشاد کیا
-
وصل سے شاد کیا، ہجر سے ناشاد کیا اس نے جس طرح سے چاہا مجھے برباد کیا دل نے سینے میں تڑپ کر انہیں جب یاد کیا در و دیوار کو آمادۂ فریاد کیا کیا طریقہ ہے یہ صیاد کا اللہ اللہ ایک کو قید کیا، ایک کو آزاد کیا پردۂ شوق سے اک برق تڑپ کر نکلی یاد کرنے کی طرح سے انہیں جب یا دکیا اب سے پہلے تو نہ تھا شوقِ محبت رسوا شاید ان مست نگاہوں نے کچھ ارشاد کیا شرحِ نیرنگیِ اسباب کہاں تک کیجئے؟ مختصر یہ کہ ہمیں آپ نے برباد کیا